ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عام آدمی پارٹی نے کیا امانت اللہ خان کا دفاع، استعفی نامنظور نائب وزیراعلی شسودیانےدہلی پولیس کو کہا مودی کی پولس

عام آدمی پارٹی نے کیا امانت اللہ خان کا دفاع، استعفی نامنظور نائب وزیراعلی شسودیانےدہلی پولیس کو کہا مودی کی پولس

Mon, 12 Sep 2016 00:05:30    S.O. News Service

نئی دہلی 11/ستمبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز)عام آدمی پارٹی نے اپنے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کاپوری مضبوطی سے دفاع کرتے ہوئے آج ان کا استعفی نامنظور کر دیا جنہوں نے جنسی تشدد کا الزام لگنے کے بعد اپنے  عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔پارٹی نے کہا کہ ان سے متعلق تنازعہ خاندان کا اندرونی معاملہ ہے جسے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔دہلی کے نائب وزیر اعلی اور سینئر عاپ لیڈر منیش سسودیا نے کہا کہ پارٹی کی داخلی جانچ میں خان کا کوئی قصور سامنے نہیں آیا ہے اور یہ کہ انہیں اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیوں کہ وہ وقف بورڈ میں بااثر لوگوں سے جڑے زمین گھوٹالوں کا پردہ فاش کر رہے ہیں۔سسودیا نے حقائق کی تصدیق کئے بغیر ہی عآپ لیڈروں کے خلاف خبریں چلانے کو لے کر میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے دہلی پولیس کو’مودی جی کی پولیس‘قرار دیتے ہوئے اس پر بھی نشانہ لگایا اور کہا کہ پولیس اہلکاروں کے دماغ میں پہلے سے ہی تایہ ثر بنا ہوا ہے اور وہ سچائی کی تصدیق کئے بغیر ہی محض الزامات پر ہی عآپ کارکنوں کو اٹھا رہی ہے۔

سسودیا نے یہاں صحافیوں سے کہاکہ ہم نے دیگر معاملات کی طرح امانت اللہ خان کے معاملہ میں بھی حقائق کی جانچ کی، یہ خاندان کا اندرونی معاملہ ہے، تنازعہ ان کے سالے کے خاندان میں ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ خان کے سالے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا ہے۔امانت اللہ خان ان سے کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خاندان کے اندرونی معاملے کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔انہیں اس معاملے میں اس لیے گھسیٹا جا رہا ہے کیونکہ وہ وقف زمین گھوٹالوں کو بڑی ایمانداری سے بے نقاب کر رہے ہیں، جو لوگ وقف کے مسائل کو سمجھ رہے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ کس طرح بااثر لوگوں نے وقف کی زمینوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔امانت اللہ خان ان گھوٹالوں کو روک رہے ہیں، اسی لیے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بریفنگ کے دوران دہلی کے وزیر کپل مشرا اور آپ کی دہلی اکائی کے کنوینر دلیپ پانڈے سسودیا کے ساتھ تھے۔امانت اللہ خان نے کل دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین اور حج کمیٹی سے یہ کہتے ہوئے استعفی دے دیا تھا کہ انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔انہوں نے رکن اسمبلی کے طور پر اور پارٹی کے سیاسی امور کی کمیٹی کے رکن کے طور پر بھی اپنے استعفے کی پیشکش کی تھی۔


Share: